راولپنڈی کینٹ کے علاقے میں مبینہ خود کش دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد34ہے۔ ترجمان ریسکیو 1122کے مطابق دھماکے سے32دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی نے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔صدر کا کہنا ہے کہ بہیمانہ جرم میں ملوث عناصر کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ دھماکا10 بج کر40 منٹ پر شالیمار ہوٹل کے قریب ایک بنک کے بیرونی دروازے کے قریب ہوا۔ دھماکے سے بنک کے قریب موجود متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے اور بڑی تعداد میں گاڑیوں اور عمارتوں کو نقصان پہنچا۔۔ذرائع کے مطابق بنک کے باہرپنشن اور تنخواہ لینے والوں کی قطار موجود تھی کہ ایک مبینہ خود کش حملہ آور نے قطار کے قریب آکر خود کو دھماکے سے اڑالیا۔آر پی او اسلم ترین کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھا۔انہوں نے کہا کہ دھماکے کے مقام سے حملہ آور کی خود کش جیکٹ اور اس کے جسم کے کچھ حصے ملے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے کے مقام پر ایک سربھی ملا ہے۔دھماکے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیااور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اوراسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی ایچ کیو میں13 لاشیں اور16مختلف اسپتالوں میں23 زخمی پہنچائے گئے ہیں ۔اس کے علاوہ3 لاشیں ملٹری اسپتال بھی پہنچائی گئیں۔اسپتال میں کچھ زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
اپڈیٹ۔۔۔
راولپنڈی کینٹ، بینک کے باہر خودکش دھماکا، 4 فوجیوں سمیت 36 جاں بحق، لاہور میں پولیس چوکی پر کار سوار نے خود کو اڑالیا،25 زخمی
راولپنڈی میں کینٹ کے علاقے میں بینک کے باہر خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں4فوجیوں سمیت 36افراد جاں بحق ہوگئے۔ دوسری جانب لاہور میں پولیس چوکی پر کار سوار نے خود کو دھماکے سے اڑالیا جس کے نتیجے میں 6اہلکاروں سمیت25افراد زخمی ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق پیر کی صبح 10 بجکر 40 منٹ پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے عقب میں ہوٹل کے داخلی اور نیشنل بنک آف پاکستان کے بالکل سامنے موٹر سائیکل سوار حملہ آور نے بینک کے سامنے تنخواہ اور یوٹیلیٹی بلز جمع کرانیوالوں کی قطار میں موٹر سائیکل لے جاکر اپنے آپ کو دھماکہ سے اڑا دیا۔ وہاں پر موجود حساس ادارے کے ایک اعلیٰ افسر، خواتین اور بچوں سمیت 34 افراد جاں بحق اور 42 زخمی ہوگئے۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ بینک کے باہر خود کش حملے کی زد میں پارکنگ میں کھڑی گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں جنہیں متعلقہ تھانہ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال میں 11 لاشیں، 13 زخمی، ایم ایچ ہسپتال میں 14 زخمی 7 لاشیں، سی ایم ایچ میں 15 زخمی اور 16لاشیں ریسیکو 1122 کی ایمبولینسوں میں منتقل کی گئی ہیں۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پورے کینٹ میں اسکی آواز سنی گئی۔ خود کش حملے کے نتیجے میں قریب کھڑے لوگوں کے جسم کے اعضاء کئی فٹ دور تک بکھر گئے۔ امدادی ٹیموں نے تمام حصے اکٹھے کرکے اسپتالوں میں منتقل کئے۔ دریں اثناء لاہور میں بابو صابو موٹر وے انٹر چینجپولیس چیک پوسٹ پر ایک کار سوار خود کش حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں 6اہلکاروں سمیت 25 افراد شدید زخمی ہو گئے۔پولیس چیک پوسٹ پر راولپنڈی دھماکہ کے بعد ہر آنے اور جانے والی گاڑی کی سخت چیکنگ کی جا رہی تھی کہ تقریباً 6 بجکر 50 منٹ پر چیک پوسٹ کے قریب ایک سفید رنگ کی گاڑی میں سوار ایک خودکش حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا جس کے بعد ہر طرف چیخ و پکار شروع ہو گئی خودکش حملہ آور کے اعضاء دور دور تک بکھر گئے۔ چیک پوسٹ کے قریب گاڑیوں میں سوار افراد زخمی ہو گئے جبکہ متعدد گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ ذریعے کے مطابق کار سوار دو خودکش حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑا یا۔علاوہ ازیں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے راولپنڈی اور لاہور حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہیمانہ جرم میں ملوث عناصر کو معاف نہیں کیا جائے گا، حکومت ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔